Call 0334-5459912 For Hijama and training in Pakistan

حجامہ کیا ہے؟

حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اسلام کی ایجاد نہیں ہے لیکن رسول اکرم ﷺ نے اسی کو اختیار کیا اور پسند فرمایا اس طریقہ علاج میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔ بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔

حجامہ کی تاریخ

حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہے۔اس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus نامی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔ ہزاروں سال پرانا طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اس میں ہزاروں سال کے تجربات بھی شامل ہیں

اسلام میں حجامہ کا مقام

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اور ایک بہترین علاج بھی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پچھنے لگوائے اور دوسروں کو ترغیب دی ۔ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں حجامہ پر پانچ ابواب لائے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو ملائکہ نے ان سے عرض کی کہ اپنی امت سے کہیں کہ وہ پچھنے لگوائیں

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ إِلَّا قَالُوا يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَکَ بِالْحِجَامَةِ

ترجمہ:حبارہ بن مغلس، کثیر بن سلیم، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں جس جماعت کے پاس سے بھی میں گزرا اس نے یہی کہا اے محمد! اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَکْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يَذْهَبُ بِالدَّمِ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ

ترجمہ: ابوبشربکر بن خلف، عبدالاعلی، عباد بن منصور، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا ہے وہ بندہ جو پچھنے لگاتا ہے۔ خون نکال دیتا ہے۔ کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی کو جلاء بخشتا ہے۔

حجامہ کی افادیت

سستا طریقہ علاج

حجامہ کے ذریعے کینسر، بانجھ پن،نفسیاتی امراض، پوشیدہ امراض سمیت لاتعداد ایسے امراض کا علاج بھی کم مدت اور انتہائی کم پیسوں میں کیا جاسکتا ہے جس کے لئے لوگ دس دس یا پندرہ پندرہ لاکھ روپے خرچ کردیتے ہیں اور علاج پھر بھی نہیں ہو پاتا ۔حجامہ کے ذریعے ایسے تمام امراض کا خاتمہ محض چند ہزار روپوں میں کیا جا سکتا ہے۔ حجامہ کے ذریعے کن کن امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے

کم مدت میں علاج ::

حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔ ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔ دیگر علاج کے طریقوں میں مریض مسلسل زیرِ علاج رہتا ہے ، دواؤں کا ستعمال کرتا رہتا ہے اور پرہیز بھی جاری رہتا ہے۔ لیکن حجامہ میں بیماری کی نوعیت کے مطابق مریض کو 7 دن 10 دن یا 15 دن بعد بلایا جاتا ہے اور چند ملاقاتوں میں بڑے سے بڑے امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

تکلیف :

چونکہ حجامہ میں کپ لگانے سے پہلے کپ لگائے جانے والے مقام پر ہلکی ہلکی خراشیں لگائی جاتی ہیں تاکہ وہاں سے خون کی بوند باہر آسکے اس لئے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے یہ دس سے پندرہ منٹ کا عمل ہوتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں اس طرح کے سخت پرہیز نہیں کرنے پڑتے جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کئے جاتے ہیں۔  تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔ طب نبوی ﷺ کی خوراک ، اور پرہیز  سے متعلق ہدایت نامہ بھائی شامی سے لیا جا سکتا ہے۔

کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں :

حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں۔ لیکن حجامہ کرواتے وقت کچھ باتوں کا خیال بھی رکھنا چاہئیے ۔

درپیش مشکل

اسلام دین فطرت ہے اور وہ زندگی گذارنے کے لئے سادگی پر زور دیتا ہے یہ سادگی عبادت ،معاشرت اور معاملات کے ساتھ ساتھ علاج میں دکھائی دیتی ہے۔حجامہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔لیکن مفاد پرست اور عاقبت نااندیش افراد نے ہر دور میں اس سادگی کو پیسے بٹورنے کا ذریعہ بنایا اور کبھی جادو ٹونے کو دعا تعویذ کا نام دے کر تو کبھی استخارہ سینٹر کھول کر اپنےمذموم ارادوں کو کامیاب بنانےکی کوشش کی جس کے باعث عوام کی بڑی اکثریت دعا ، اور استخارے جیسی عبادات کے فوائد سمیٹنے کے بجائے ان کی طرف سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئی۔ کچھ یہی صورتِ حال حجامہ کو بھی درپیش ہے۔ ماضی قریب میں جب اس مسنون طریقہ علاج کے باعث لوگوں کو تیزی سے فائدہ پہنچنے لگا تو سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں گلی گلی ،محلہ محلہ میں ایسے حجامہ ماہرین سامنے آگئے جنہیں حجامہ کی الف ب کا بھی نہیں پتا انہوں نے کسی سے کپ لگانے کا طریقہ سیکھا اور اگلے ہی دن خود کو معالج کے طور پر پیش کردیا۔ یہ یقینناً ایک خطرناک رحجان ہے جس کے سبب حالیہ دور میں ایک زندہ ہوتی ہوئی سنت پھر خطرے سے دو چار ہو چکی ہے۔ اور بہت سے لوگ اب حجامہ کو بھی تعویذ ، گنڈے، اور جعلی استخارے کی فہرست میں شامل کرنے لگے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ یہ غیر مستند افراد آپس میں کچھ ایسا مقابلہ بھی کرنے لگے ہیں جیسا کہ کراچی میں صدر یالی مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے جعلی ڈینٹیسٹ کررہے ہیں ۔سمجھدار لوگ کبھی بھی کم پیسوں کے چکر میں اپنا جبڑا جعلی ڈینٹسٹ کے حوالے نہیں کرتے جبکہ ہماری جان تو اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

مشکل کا حل:

حجامہ کرنے کا عمل جہاں بظاہر بہت سادہ ہے وہیں معالج کے لئے اس کا ماہر ہونا بہت ضروری ہے ۔ شائد ہی کوئی مرض ہو جس کا حجامہ کے ذریعے علاج ممکن نہ ہو ۔ فی الوقت کینسر اور ہیپا ٹائٹس سے لے کر سیکڑوں نفسیاتی و جسمانی امراض کا علاج ہم کر رہے ہیں ان کی فہرست یہاں کلک کرکے دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر مرض کے لئے جسم پر الگ الگ انداز میں خراش لگائی جاتی ہے اور مخصوص پوائنٹس پر کپ لگائے جاتے ہیں ۔ یہ عمل کتنی دیر جاری رکھنا ہے؟ خراش کس انداز میں لگانی ہے ؟ کپ کتنی تعداد میں لگیں گے؟ اور کتنی دیر تک لگیں گے؟ کتنے سیشن (ملاقات) ہونے ہیں ؟ اور کتنے کتنے وقفے سے ہونے ہیں ؟ وہ بیماریاں جن کا علاج ماہرالحجامہ کر رہا ہے دنیا میں ان کا پہلے سے کن کن طریقوں سے علاج کیا جا رہا ہے؟ بیماریوں کے پیدا ہونے کے اسباب کیا ہیں؟ دنیا بھر میں ان بیماریوں کی کیا شکلیں ہیں؟ ان سب باتوں کا علم ماہر الحجامہ کو ہونا چاہئیے ۔ اس کے علاوہ علاج کے لئے وقت اور دن کا تعین بھی اہم ہے مثال کے طور ہر بہت سی بیماریوں کے لئے چاند کی 19,17ا ور 21 تاریخ بہت اہم ہیں ۔

(اشد ضروری ہے کہ معالج anatomy جانتا ہو،اور میڈیکل
سا یُنس سے بھی واقف ہو تا کہ مرض کی تشخیص اور
صحیح مقام پر حجامہ ہوسکے)

الحجامہ احادیث کی روشنی میں

  • حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شفاء تین چیزوں میں
  • ہے حجامہ لگوانے،شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے ۔میں اپنی اُمت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں(بخاری ص۸۴۸ ج زادالمعاد ص ۵۵۰ طبع بیروت)
  • حضرت ابنِ عباس سے مرسوی ہے آپ ﷺ نے ایک مرتبہ حجامہ لگوایا حالانکہ آپ روزے سے تھے۔(بخاری ص ۸۴۹ ج ۲ )۔
  • حضرت ابنِ عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حالاتِ احرام میں حجامہ لگوایا۔(بخاری ص۸۴۹ ج ۲ )۔
  • حضرت انسؓ سےمروی ہےکہ آپؓ سے حجامہ لگانےکی اُجرت کے بارےمیں پوچھا گیا(جائز ہے یا نہیں؟)آپؓ نےفرمایا کہ حضور پاکﷺکو ابوطیبؓہ نے حجامہ لگایا تھا آپﷺنے انہیں دو صاع اناج اُجرت میں دیا تھا (بخاری ۸۴۹ ،ج ۲ مسلم ص ۲۲ ج ۲ زادالمعاد ۵۵۱ طبع بیروت)
  • حضرت جابرؓ بن عبداللہ ،مقنع کی عیادت کے لیےتشریف لائے پھر ان سے کہا جب تک تم حجا مہ نہیں لگو اوُ گے میں یہا ں سے نہیں جاوُں گا ۔میں نے رسول پاکﷺ سے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے ۔
  • حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے اپنے سر مبا ر ک پر حجا مہ لگوایا۔( بخاری ص ۸۴۹ ج ۲ )
  • حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول پاکﷺ کو فرماتے سنا اگر تمہا ری دواوْں میں کسی میں خٰیر ہے تو شہد پینے ،اورحجامہ لگوانے، اور آگ سےداغے میں لیکن میں آگ سے داغے کو نا پسند کرتا ہوں۔(بخاری ص۸۵۰ ج ۲ )
  • حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا حجامہ لگوانے والا غلام کتنا بہترین ہے۔خون کو لے جاتا ہے پیٹھ کو ہلکا کر دیتا ہے اور نظرکو صاف کرتا ہے۔(ترمذی ص۲۵ ج ۲ ۔ زادالمعاص۵۵۱ بیرت)
  • ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم لوگوں کی تمام ادوایات میں سے کوئی دوا بہتر ہے تو وہ ججامہ لگوانا ہے۔(ابوداوُدص۱ج۲)
  • رسول پاک ﷺ کی خادمہ حضرت سلمٰی ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص بھی رسول ﷺ کی خدمت میں سے سردرد کی شکایت کرتا آپ ﷺ اس حجامہ لگوانے کا حکم فرماتے ۔اور جو شخص پاوَں کے درد کی شکایت کرتا اس سے فرماتے کہ پاوَں میں مہندی لگاوَ۔(ابوداودص۱۸۳ج۲)
  • حضرت ابو کبشہؓ انماری سے مروی ہے آنحضرت ﷺ اپنے سر مبارک کی مانگ میں اور دونوں کندھوں کے درمیان فصد لگواتے اور ارشاد فرماتے جو شخص ان جگہوں کا خون نکلوائے تو اس کو کسی مرض کے لیے دوا استعمال نہ کرنا نقصان نہیں پہنچائے گا۔(ابوداود ص ۱۸۳ ج۲ ابنِماجہ ص ۲۴۹ )
  • حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ جس شخص نے ۱۷،۱۹اور ۲۱ تا ر یخ کو حجامہ لگوایا اس کے لیے ہر مرض سے شفا ء ہو گی۔ (ابو داؤد ص ۱۸۳ ج ۲ ۔ذادالمعاد۵۵۳ بیروت)
  • جابرؓ سے مروی ہے کے رسول ا للہؐ نے اپنے ران مبارک کے بالایٔ حصے پر ہڈی میں درد کی بناء پر حجامہ لگوایا ۔( ابو داؤد ص ۱۸۴ ج۲۔ذادالمعاد ص ۵۵۲ بیروت)
  • حضرت ابنِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا شبِ معراج میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی میرا گزر ہوا ہر ایک نے مجھے یہی کہا ‘‘اے محمد ﷺاپنی اْمت کو حجامہ لگوانے کا حکم فرمائیے۔’’(ابنِ ماجہ ص ۲۴۸)
  • حضرت انس ؓبن مالک سے مروی ہے کہ رسول ا للہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شبِ معراج میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی میرا گزر ہوا ہر ایک نے مجھے یہی کہا ‘‘اے محمد ﷺاپنی اْمت کو حجامہ لگوانے کا حکم فرمائیے۔’’(ابنِ ماجہ ص ۲۴۹۔ زادالمعار ص ۵۵۱ )
  • حضرت عبداللہ بن بحسینہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لحی جمل (نامی مقام) میں بحالت احرام اپنےسر مبارک کے وسط میں حجامہ لگواۓ۔
  • حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نبی کریم ﷺ کے پاس گردن کے دونوں جانب کی رگوں اور کندھوں کے درمیان حجامہ لگانے کا حکم لے کر آئے۔(ابنِ ماجہ ۲۴۹ ۔زادالمعاص۵۵۲)
  • حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گرے تو آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں موچ آگئ۔وکیع فرماتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہڈی میں دردکی وجہ سے حجامہ لگوائے۔(ابنِ ما جہ ص ۲۴۹)
  • حضرت انس بنِ مالکؒ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایاجو حجامہ لگو انا چاہے وہ ۱۷ یا ۱۹ یا ۲۱ تاریخ کو لگائے تا کہ ایسا نہ ہو کہ خون کا جوش تم میں سے کسی ایک کو ہلاک کردے۔(ابنِ ماجہ ص ۲۴۹ ذادالماد ص ۵۵۳ بیروت)
  • نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا گُدی کے اوپر کی ہڈی کے وسط میں حجامہ ضرور لگوایا کرو اس لئے کہ یہ پانچ بیماریوں سے شفاء ہے۔(ذادالمعار ص ۵۵۲ بیروت)
  • نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گُدی سے اوپر کے گڑھے ( یعنی ہڈی اوپر) میں ضرور حجامہ لگواؤ ۔اس لیے کہ یہ بہَتر (۷۲ ) بیماریوں سے شفاء ہے۔(ذادالمعاد ص ۵۵۴ بیروت)

فوائدِ حجامہ

  • شرعتہ اسلام میں ہے کہ سر پر حجامہ کروانے سے سات (۷) امراض میں شفاء ہے۔ جنون،جزام،برص،اونگھ،دانتوں کا درد،آنکھوں کا غبار ،سر دردِشقیقہ اور سستی ۔
  • اطباء کی متفقہ رائے ہے کہ نیچے حجامہ کروانے سے چہرے،گلے اور دانتوں کو سکون ملتا ہے۔ایڑھی پر حجامہ کروانے سے ران اور پنڈلیوں کو آر ا م ملتا ہے اور خارش دور ہوتی ہے۔سینے کے نیچے حجامہ کروانے سے پھوڑے پھنسی ،دمل،خارش،نقرش،بواسیر اور کندذہنی کو افاقہ ہوتا ہے،
  • حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو کسی مرض میں اس کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے گُدی کے دونو ں جانب حجامہ کروایا۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ ہر اس موقع پر جب خون میں جوش ہو حجامہ کرواتے تھے۔اس کے لیے نا وقت اور ساعت کسی چیز کا لحاظ نہیں کیاجائے گا۔
  • ایک روایت میں ہے کہ طبیبِ اعظم ﷺ نے فرمایا بہترین علاج حجامہ لگوانا ہے۔آپﷺ نے سر مبارک میں پچھے یعنی حجامہ کروایا کیونکہ آپﷺ کے سراقدس میں درد تھا ( دردِشقیقہ یعنی آدھے سر کا درد )۔
  • جس کسی نے طبیب اعظم ﷺ سے درد کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے گردن اور مونڈھوں پر حجامہ کروانے کا حکم فرمایا۔
  • جب طبیب اعظم ﷺ کو زہر دیا گیا تو آپ ﷺ نے گردن اور مونڈھوں پر حجامہ کروایا۔( سراالسادات)
  • جب طبیب اعظم ﷺ پر یہودیوں نے جادو کیا تو آ پ ﷺ نے اپنے سر اقدس پر حجا مہ کروایا۔ اس حدیث سے معلو م ہوا کہ حجامہ کروانا جادو اور زہر کے لیے بھی مفید ہے۔
  • ایک حدیث میں ہے کہ تم گُد ی کی ہڈی کے غبار پر حجا مہ لگوا ؤ اس لیے ( ۷۲ ) بیماریوں سے نجات ہے۔
  • طبیب اعظم ﷺ نے جنون ، جزام،برص اور مرِگی کا علاج حجامہ تجویز فرمایا۔
  • حضرت ابنِ عمرؓسے روایت ہے کہ طبیب اعظم ﷺنے فرمایا کہ حجامہ کرنے سے عقل بڑھتی ہے اور قوتِ حا فظہ میں اظافہ ہوتا ہے۔
  • حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ طبیب اعظم ﷺ نے فرمایا ہے کہ حجامہ سے نگاہ تیز ہوتی ہے اور پیٹھ ہلکی ہوتی ہے۔(متسدرک،حاکم)
  • ) طبیب اعظم ﷺ درد ک با عث اپنی ران مبارک پر حجامہ کروایا۔(ابوداؤد۔ابنِ ماجہ)

حجامہ مندرجہ ذیل تمام امراض میں نہایت مفید ہے

  • دل کے امراض
  • کینسر
  • ہیپاٹائٹس بی اور سی
  • ہائی اور لو بلڈ پریشر
  • شوگر کی بیماری
  • موٹاپا
  • سر گنجا پن
  • جگر کی تمام بیماریاں
  • گردے کی پتھری
  • پتہ کی پتھری
  • کولیسٹرول کابڑھ جانا
  • قبض
  • جوڑوں کا درد
  • کمر کا درد
  • بواسیر
  • مرد انہ بانجھ پن
  • ترک سگریٹ نوشی کے لئے
  • ہچکی
  • ہاتھوں،پیروں کا درد
  • سینے کا درد
  • بے خوابی
  • پاخانہ کی جگہ پر ناسور
  • پیٹ کے نچلے حصے کا درد
  • متلی،الٹی
  • ایڑیوں کا درد
  • قوت باہ،مردانہ کمزوری
  • لبلبہ کی بیماری
  • مایو پیتھی
  • دست،پیچیش
  • پیشاب کا بند ہونا
  • بہرا پن
  • سائینو سائیٹس
  • عقل کی کمی
  • عمومی سر درد
  • عرق النساء
  • رانوں کا درد
  • پیشاب کے غدودکے مسائل
  • ٹی،بی نمونیہ و سینہ کی بیماری
  • پیٹ کی جلن اور بد ہضمی
  • بڑی آنت کے مسائل
  • فوطوں کی رگوں کا پھول جانا
  • خون کی رگوں کا پھول جانا
  • مثانہ میں ورم
  • گلے کا غدود کے مسائل
  • آنکھوں کی بیماریاں
  • جلد پر سفید چھلکے
  • بھوک کا نہ لگنا
  • گردن کے مہروں کا درد
  • قبض کی وجہ سے سر درد
  • گلے ،دانت اورکان کے مسائل
  • لقوہ
  • آواز کا بند ہونا
  • فشر مقد سے انتڑی باہر آجانا
  • نیند کا زیادہ آجانا
  • پاؤں کی رگوں کا پھول جانا
  • کھانسی
  • پیشاب کا نکل جانا
  • پیٹ کا السر
  • فیل پا
  • جلد کی بیماریوں اور خارش
  • ذہنی اضطراب و پریشانی
  • یاداشت کی کمزوری
  • دردِ شقیقہ
  • برص
  • جادو
  • منہ کا نہ کھلنا
  • فالج
  • ہڈیوں کا درد
  • کندھوں کا درد
  • ہاتھ کا اوپر نہ اُٹھنا
  • گٹھنوں کا درد
  • چکر آنا
  • ہاتھ پاِؤں کا سن ہوجانا
  • ٹانگوں کا درد
  • احتلام
  • ماہواری کا دیر سے آنا
  • جریان
  • گردن کے مہروں کا درد
  • مہروں کے مسائل
  • سروائیکل کے مسائل
  • گردن کے مہروں کا درد
  • ٹانگوں میں پانی بھر جانا
  • گُردے کی سُوجن
  • ہڈیوں کا بخار
  • ٹانگوں کی رگوںکا پھول جانا
  • تھائی رائیڈکے مسائل
  • نیند کا نہ آنا
  • سوتے ہوئے پیشاب نکل جانا
  • سوریاسز
  • مرگی
  • آنکھوں کے جملہ امراض
  • جسم کا درد
  • ہکلاہٹ
  • سوزاک
  • چہرے کے دانے
  • موتیا
  • ناف کا ٹلنا
  • ایڑیوں کا درد
  • خارش
  • ٹانسلز
  • ملیریا
  • شوگر
  • بالوں کا گِرنا
  • نفسیاتی بیماریاں
  • تھیلیسیمیا
  • بالخور
  • ایگزیما
  • غصہ زیادہ آنا
  • رعشہ
  • ہاتھ،پاؤں کی جلن
  • عورتوں کا بانجھ پن
  • اسپرم کی کمی
  • انڈہدانی کا غیرفعال ہونا
  • شوگر

ہدایات

  • حجامہ حضورﷺ کی سنت ہے اور کائنات کا بہترین علاج ہے۔(بخاری ) لٰہذااسے یقین سے کروانا اور دل میں شک کو جگہ نہ دینا شفاء ملنے کی بنیاد ہے۔
  • حضوؐر کی سنتوں سے نفع اٹھانے کے لۓ یقین شرط ہے۔
  • معالج اور مریض دونوں کا یقینِ کامل شفا کے ملنے میں کارگر ہے۔
  • مریض کو چاہیے وہ تمام اسباب جواحادیث مبارکہ میں شفاء کے متعلق وارد ہوۓ ہیں ان سب کو اختیار کرے،
  • مثلًا:صلوٰۃِ حاجت، صدقہ،شہد،کلونجی،زم زم ، وغیرہ۔
  • یاد رہے ہمیشہ وہ صدقہ کارگر ہوتا ہے جو قربانی سے بھر پور ہو جسے دینے بعد مال پر چوٹ محسوس ہو۔
  • بیماری آزمایٔش بھی ہے اورسزا بھی اگر بیمار کا رجوع اللہ کی طرف نہ ہو تو وہ سمجھ لے کے اللہ کی پکڑ میں ہے

یہ مریض اپنا رخ اللہ کی طرف پھیر دے اور ایمان عمل
تقوٰی کی زندگی اختیار کرے، اگر رجوع موجود ہے تو صبر
کرے اور اللہ سے عافیت مانگتا رہے۔

  • حجامہ سے قبل اگر کچھ نہ کھایا جائے تو بہتر ہے۔
  • حجامہ کے بعد غسل کرنا سنت ہے۔
  • اشد ضروری ہے کہ مریض معالج کو اپنی رائے پر جلنے پر مجبور نہ کرے اور معالج کی ہر رائے پر عمل کرے۔
  • ہر بیماری میں حجامہ کے پوائنٹس کے مقامات مختلف اور کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔
  • حجامہ کروانےکے ایک گھنٹےبعد کھانا کھائیں ۔
  • معالج علاج کا جتنا دورانیہ بتائے اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
  • مریض علاج کے ساتھ صدقے کا بھی اہتمام کریں کیونکہ حدیث کا مفہوم ہے صدقہ بیماری کو کھا جاتا ہے ۔
  • حجامہ سے لگنے والے کٹ قطا خراب نہیں ہوتے ۔حدیث کا مفہوم ہے ‘‘اللہ پاک ان دھاروں میں شفاء رکھی ہے۔
  • شوگر کے وہ مریض جو انسولین لگاتے ہوں جن کی نہار منہ شوگر400سے 500 تک ہو حجامہ لگواسکتے ہیں ۔
  • حجامہ ہر بیماری میں مفید ہے۔
  • حجامہ میں صرف جِلد کا خون نکالا جاتا ہے۔
  • حجامہ کے دوران استعمال ہونے والے گلوز،کپ ڈسپوزایبل ہیں جو استعمال کے بعد پھینک دئے جاتے ہیں۔
  • حجامہ کے کٹ 24گھنٹے میں بھر جاتے ہیں کیونکہ صرف جلد کی سطح کو ہی کاٹا جاتا ہے۔
  • حجامہ افضل ضرور ہے لیکن باقی کسی بھی طریقہ علاج کی نفی نہیں۔حجامہ کے ساتھ کسی دوسرے علاج کو جاری رکھنے کے اعتبار سے مشورہ ضرور کریں۔
  • حجامہ کےعلاوہ کسی بھی قسم کی دوا مریض کو نہیں دی جاتی۔
  • حجامہ کی اُجرت سنت سے ثابت ہے۔ابو طیبہؓ نے جب حضور ﷺ نے ساڑھے تین سیر غلہ اُجرت میں دیا۔
  • پوائنٹس کی تعداد مرض کے اعتبار سے بڑھائی جاتی ہے۔
  • عموماً حجامہ کے دوران خون کے دھبے کپڑوں پر لگ جاتے ہیں اور اگر اضافی کپڑے نہ ہوں تو نماز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے احتیاطاً اضافی کپڑے ضروررکھیں
  • حجامہ کے دوران اس بات کا خیال حجامہ کے دوران اس بات کا خاص خیال رہے کے معالج (ANATOMY) کو اچھی طرح جانتا ہو تا کہ صحیح مقام پر حجامہ ہو سکے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: